تازہ ترین
طالبان مزید 6 اضلاع پر قابض: چھینے گئے تمام علاقے واپس لے لئے : افغان حکام
  8  جولائی  2021     |     علاقے
افغان طالبان کے اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد سرکاری افواج پر حملوں میں شدت پیدا ہو گئی۔ افغان طالبان نے صوبے بادغیس کے صوبائی دارالحکومت قلعہ نو پر حملہ کر دیا۔ گھمسان کی لڑائی کے بعد طالبان نے پولیس ہیڈ کوارٹرز اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے دفاتر پر قبضہ کر لیا۔جیل کا مرکزی دروازہ توڑ کر200قیدی فرار ہو گئے، افغان وزیر دفاع بسم اللہ محمدی نے شہر میں شدید لڑائی کی تصدیق کر دی۔ طالبان موٹرسائیکلوں پر سوار ہو کر شہر میں داخل ہوئے۔ گورنر بادغیس ہاشم الدین شمس نے کہا ہے کہ طالبان نے تمام اضلاع پر قبضہ کر لیا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے ایک بیان میں کہا کہ صدر جو بائیڈن کے انخلا کے فیصلے کے بعد سے سی 130 مال بردار طیاروں کی 984 پروازوں کے ذریعے فوجی سازوسامان افغانستان سے باہر منتقل کیا جاچکا ہے۔ ان میں سے 17074 فوجی آلات ٹھکانے لگانے کے لیے ڈیفنس لاجیسٹکس ایجنسی کے حوالے کیے گئے ہیں۔ 7 فوجی اڈوں کو سرکاری طور پرافغان وزارت دفاع کے حوالے کردیا ہے۔ ترجمان نے کہا بگرام بیس چھوڑنے کا عمل جلدی میں نہیں کیا۔ افغان قیادت کو 48 گھنٹے قبل بتا دیا تھا۔ بران یونیورسٹی کے جنگ کی لاگت منصوبہ کے مطابق امریکا نے افغانستان میں گذشتہ دو عشروں کے دوران میں 20 کھرب ڈالر جھونک دیئے ہیں۔ دریں اثنا افغان فورسز اور طالبان میں جاری لڑائی میں شدت آگئی۔ کابل حکومت نے چھن جانے والے تمام اضلاع طالبان سے واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس میں قلعہ نو بھی شامل ہے ،عالمی میڈیا کے مطابق افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمداللہ محب نے کہا کہ چھن جانے والے تمام اضلاع طالبان سے واپس لیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے حملوں میں تیزی لا کر ثابت کیا ہے کہ وہ امن کے لیے راضی نہیں ہیں۔ ادھر افغان طالبان نے مزید 6اضلاع پر قبضہ کرلیا جن میں ہرات اور بادغیس کے دو، دو نمروز اور بدخشان کا ایک، ایک ضلع شامل ہے۔اطلاعات کے مطابق مغربی اور شمالی اضلاع پر قابض ہونے کے بعد افغان اہلکاروں نے طالبان کو گلے لگا کر ہتھیار، بکتر بند گاڑیوں کی چابیاں حوالے کر دیں صدر اشرف غنی نے الزام لگایا خونریزی،تباہی کے ذمہ دار ہیں،ان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گا،انکے ہتھیار ڈالنے کی کوئی خفیہ ڈیل نہیں،امریکہ نے جانے کا فیصلہ کیا توکہا پاکستان اور طالبان اپنا فیصلہ خود کریں۔
 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔