تازہ ترین
انسانی حقوق تنظٰیموں کی اضافی فوجی دستوں پر تشویش ،11 جون کو ہڑتال کی کال
  10  جون‬‮  2021     |     سپیشل رپورٹس
بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر میں حزب المجاہدین کے سات کارکنوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ(یو اے پی اے) کے تحت مقدمے میں چارج شیٹ جموں کی عدالت میں پیش کر دی گئی ہے۔ کے پی آئی کے مطابق بشیر احمد ، ولی محمد ، غلام نبی ، محمد رمضان ، صدام حسین ، خضر محمد اور محمد حسن کے خلاف بھارت مخالف سرگرمیوں کے الزام میں مقدمہ درج ہے ۔ ایڈیشنل سیشن جج جموں ، سنت گپتا ، کی عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی۔اس موقع پر سات نوجوانوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ(یو اے پی اے) کے تحت مقدمے میں چارج شیٹ پیش کی گئی ان نوجوانوں کو 02 جنوری ، 2020 کو جموں سے گرفتار کیا گیا تھا۔اسلامی تنظیم آزادی جموں کشمیر کے علیل چیئرمین پیر عبدالصمد انقلابی نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر نئے فوجی دستوں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر نئے فوجی دستوں کی تعیناتی پر11 جون کو مقبوضہ کشمیر میں احتجاج اور ہڑتال کی جائے ۔ ایک بیان میں پیر عبدالصمد انقلابی نے کہا کہ بھارتی فوج کشمیریوں کے قتل پر مامور ہے ۔ جموں کشمیر میں جتنا ذمہ دار گولی چلانے والا ہے اس سے کہیں زیادہ ذمہ داری اس کو ایسا کرنے کا حکم صادر کرنے والوں پر ہوتی ہے۔ چیئرمین نے کہا ہے کہ بھارتی فورسز اہلکار اپنی تنخواہ اور مراعات کے لیے نہتے کشمیریوں کو تہہ تیغ کرتے ہیں۔ جموںوکشمیر پیپلز موومنٹ، پیرپنجال فریڈم موئومنٹ اور پیلز ایسوسی ایشن نے مقبوضہ جموں میں بھارتی فورسز کے مزید دستوں کی تعیناتی پر تشویس کااظہارکیا ہے۔ جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کے وائس چیئرمین عبدلمجید ملک, جموں کشمیر پیر پنجال فریڈم موومنٹ کے وائس چیئرمین قاضی عمران اور جموںوکشمیر پیپلز ایسوسی ایشن کے کنوینر خالد شبیر نے اسلام آباد سے جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں مزید فوجی بھیج کر علاقے میںاپنی ریاستی دہشت گردی میں مزید اضافہ کرنے جا رہا ہے جسکااقوام متحدہ اور عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔