تازہ ترین
بابری مسجد کے بعد انتہا پسند ہندو ایک اور مسجد کو شہید کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے، انتہائی افسوسناک خبر آگئی
  29  ستمبر‬‮  2020     |     سپیشل رپورٹس
ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ کو ’رام‘ کی جنم بھومی قرار دے کر ہندوﺅں نے مسجد شہید کر ڈالی اور اب وہاں رام مندر بنایا جا رہا ہے اور اب بھارتی شہر متھورا میں ایک مسجد کی جگہ کو بھگوان کرشنا کی جنم بھومی قرار دے کر انتہاءپسند ہندو اسے شہید کرنے کے درپے ہو گئے ہیں۔ انڈیا ٹائمز کے مطابق انتہاءپسند ہندوﺅں کی طرف سے متھورا سول کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں متھورا کی بادشاہی مسجد کو شہید کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ مسجد 1669-70ءمیں مغل بادشاہ اورنگ زیب نے تعمیر کروائی تھی۔ان انتہاءپسند ہندوﺅں کاکہنا ہے کہ یہ مسجد اس جگہ تعمیر کی گئی جہاں کیترا کیشو دیو مندر کی 13.37ایکڑ اراضی پر تعمیر کی گئی جو اصل میں دیوتا شری کرشنا کی جنم بھومی ہے۔ واضح رہے کہ کئی دہائیاں قبل بھی انتہاءپسند ہندو یہ قضیہ چھیڑ چکے ہیں تب 1968ءمیں عدالت نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور ہندوﺅں اور مسلمانوں کے درمیان تصفیہ کروا دیا تھا جس کے تحت مسجد بھی اپنی جگہ باقی رہی اور مندر بھی۔ تاہم اس نئی پٹیشن میں انتہاءپسند ہندوﺅں نے 1968ءکے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے تاکہ مسجد کو شہید کرکے پوری زمین مندر کو دی جا سکے۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔