تازہ ترین
فلسطینی سہ فریقی سکیورٹی تعاون جاری رکھیں: امریکی وزیر خارجہ
  21  مئی‬‮  2020     |     بین الاقوامی دفاع
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسرائیل کے غرب اردن کے علاقوں کو ہتھیانے کے مجوزہ منصوبے کے ردعمل میں فلسطینیوں کی جانب سے سکیورٹی تعاون ختم کرنے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔فلسطینی صدر محمود عباس نے منگل کی شب اسرائیل اور امریکا کے ساتھ طے شدہ تمام سمجھوتوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔ان میں سہ فریقی سکیورٹی تعاون سے متعلق سمجھوتے بھی شامل ہیں۔مائیک پومپیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم یہ امید کرتے ہیں، سکیورٹی انتظامات جاری رہیں گے اور اسرائیلی اور فلسطینی عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کو جاری رکھا جائے گا۔انھوں نے فلسطینی صدر کے اعلان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا’’ مجھے افسوس ہے کہ انھوں نے ان سمجھوتوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔مائیک پومپیو نے گذشتہ ہفتے مقبوضہ بیت المقدس میں نیتن یاہو سے ملاقات کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی بھی صدر ٹرمپ کے منصوبے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس میں ان سے ایک آزاد مگر غیر فوجی ریاست کا وعدہ کیا گیا ہے۔مگر امریکی وزیر خارجہ کے بہ قول’’ فلسطینی صدر ٹرمپ کے امن کے ویژن کے مطابق مذاکرات کی میز پر مل بیٹھنے ہی سے انکار کررہے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ایک عرصے سے غربِ اردن میں فلسطینی اراضی پر قائم یہودی بستیوں اور دوسرے علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے اعلان کرتے رہے ہیں لیکن انھیں اس پر عمل درآمد کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔اس سال کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ امن منصوبے سے انھیں شہ ملی ہے اوراب وہ بین الاقوامی برادری کی مخالفت کے باوجود فلسطینی علاقوں کو ہتھیانے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ اس ضمن میں ان کی بھرپور حمایت اور حوصلہ افزائی کررہی ہے۔وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سابق سیاسی حریف اور اب اقتدار میں ساتھی بینی گینز کے درمیان مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے طے شدہ سمجھوتے کے تحت نئی کابینہ یکم جولائی سے یہودی بستیوں کو ضم کرنے کے منصوبے پر غور شروع کرے گی۔امریکا کے سابق نائب صدر اور اب نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کے مدمقابل میدان میں اترنے والے ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے فلسطینی اراضی کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کی مخالفت کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امن کے لیے امید کو نقصان پہنچے گا۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں