تازہ ترین
مقبوضہ کشمیر: بھارتی فوج کے محاصرے ، تلاشی کی کاروائیاں جاری، متعدد نوجوان گرفتار
  20  مئی‬‮  2020     |     سپیشل رپورٹس
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے مختلف علاقوں میں تلاشی اور محاصرے کی پرتشدد کارروائیاں جاری رکھیںاور متعدد نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فورسز نے پیر کی صبح ضلع پلوامہ کے علاقے مورن اور اشمندر میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائیاں شروع کیں۔بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں نے دونوں علاقوں کے داخلی اور خارجی راستوں کی ناکہ بند ی کر کے گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران لوگوں میںخوف و ہراس پھیلایا۔ادھر مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سیاسی تجزیہ کاروںنے کہاہے کہ بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سرینگر، کپواڑہ ، بارہمولہ ، بانڈی پورہ ، گاندربل ، بڈگام ، اسلام آباد ،پلوامہ ، شوپیاں ، کولگام ، رام بن ، کشتواڑ ، ڈوڈہ، راجوری ، پونچھ اور جموں کے متعدد مسلم علاقوں میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوںکی وجہ سے سیاحت، زراعت ،تعلیم، تجارت ، ٹرانسپورٹ اور دستکاریوں سمیت مقامی معیشت کو تباہ اور لوگوں کے معمولات زندگی کوبری طرح متاثر کرنے پر تلا ہو اہے ۔انہوںنے کہاکہ ان فوجی کارروائیوں کا مقصد کشمیریوںکی زندگیوں کو اجیرن بنانے کے علاوہ ان کے جذبہ حریت کو کمزور کرنا بھی ہے ۔ دریں اثناء سول سوسائٹی کے اراکان نے گھر گھر تلاشی کی جاری کارروائیوں کے دوران نوجوانوں کو ہراساں اورانکی گرفتاریوں اور تیز رفتار انٹرنیٹ سروس پر مسلسل پابندی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی بدترین سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال کا سخت نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔مقبوضہ کشمیر میںجموں وکشمیر پیپلز موومنٹ نے گزشتہ سال پانچ اگست کے بعد اور اس سے پہلے مختلف جیلوں میں نظربند تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت رہنما اور جموں وکشمیرپیپلز موومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے جموں میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس دنیا بھر میں تباہی مچا رہا ہے اور جیلوں میں بھیڑ کو کم کرنے کے لئے قیدیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جارہا ہے ، بھارت نے ہزاروں کشمیریوں کو جیلوں میں نظربند کررکھا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تاجروں کے اتحاد کشمیر ٹریڈ الائنس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈائون سے صرف گزشتہ دو ماہ کے دوران وادی کشمیر کی معیشت کو 8ارب 41کروڑ روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیر ٹریڈ الائنس کے سرپرست اعلیٰ فاروق احمد ڈار نے سرینگر میں ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہاکہ یہ اعدادو شمار 19 مارچ کے بعد سے کرونا وائرس کے باعث لاک ڈائون کے ہیں اوراس دوران کشمیری تاجروں کو 8ارب 41کروڑ روپے سے زائد کا نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعزاز شاہدھر نے کہا کہ وادی کشمیر میں لاک ڈائون ختم ہونے کے بعد کشمیری تاجروںکو اس دوران ہونے والے نقصانات کے بارے میں حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں