تازہ ترین
ترکی واحدانہ طور پر یورپی یونین اور نیٹو کی سرحدوں کی مزید حفاظت نہیں کر سکتا
  25  مارچ‬‮  2020     |     بین الاقوامی دفاع
وزیرِ خارجہ میولود چاوش اولو کا کہنا ہے کہ ترکی نیٹو اور یورپی یونین کی سرحدوں کا واحدانہ طور پر تحفظ کرنے کے عمل کو مزید جاری نہیں رکھ سکتا۔ چاوش اولو نے برطانوی فنانشیل ٹائمز اخبار کے لیےْ یورپی یونین کی شامی مہاجرین کے معاملے میں سرد مہری اور ٹہراو انسانی ضمیر پر ایک کالے دھبے کے مترادف ہے، کے عنوان پر مبنی ایک مقالہ تحریر کیا ہے۔ مقالے میں یورپی یونین کے ْ انسانی حقوق اور اصولوں پر مبنی عالمی نظام کا احترام کرنے والی ایک رہنما طاقت بننے کے دعوے کی یاد دہانی کرانے والے چاوش اولو نے لکھا ہے کہ تاہم یونان کے مہاجرین سے مؤقف اور اس موضوع پر یورپی یونین کی جانب سے کوئی قدم نہ اٹھانے سے یہ دعوی مسخ ہو جائیگا۔ بذات ِ خود طویل عرصے سے یورپی یونین کو انتہا پسندی، غیر ملکی دشمنی، اسلام و یہودیت مخالف کاروائیوں میں خاموش تماشائی بننے پر خبردار کرنے کی توضیح کرنے والے وزیر چاوش اولو کا کہنا ہے کہ”ہم نے شام کی طرح اپنے اپنے ممالک میں خانہ جنگی اور جھڑپوں سے راہ فرار اختیار کرنے والے انسانوں کے اجتماعی طور پر اپنے گھر بار کو ترک کرنے کے خلاف نبرد آزما ہونے کے لیے عالمی نظام کو از سر نو تشکیل دیے جانے کی بھی اپیل کی۔ یورپی یونین کو اس قسم کی جھڑپوں کا سد باب کرنے اور یورپ کو نازک دور کی جانب دھکیلنے کے مد مقابل حل تلاش کرنے کے زیرِمقصد ہم سے تعاون کرنے پر آماد کرنے کی بھی کوشش کی۔ “ ترکی نے ابتک شامی مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے 40 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ محض گزشتہ برس غیر قانونی طریقے سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے 4 لاکھ 55 ہزار افراد کو ترک سیکورٹی قوتوں نے روکا۔ ان حالات میں نیٹو اور یورپی یونین کی سرحدوں کا واحدانہ طور پر تحفظ کرنے کے عمل کو مزید جاری نہیں رکھ سکتے۔ وزیر چاوش اولو نے مزید کہا ہے کہ ترکی اور یورپی یونین ان مسائل کے حل کے لیے ایک مشترکہ زمین تیار کرنے پر مجبور ہے، کیونکہ یورپی یونین ایک جیو پولیٹکل یونین بننے کی خواہاں ہے ، یہ چیز بھی اس کے فرائض کے زمرے میں آتی ہے۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں