تازہ ترین
آرمی چیف اور پاک فوج کے افسران کا اپنی تنخواہیں کورونا فنڈ میں دینے کا اعلان
  24  مارچ‬‮  2020     |     آرمی
آرمی چیف جنرل قمر جاوید بلاجوہ نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ، بریگیڈیئرز سے لیفٹیننٹ جنرل تک 3دن، کرنل تک کے عہدے کے آفیسرز نے2دن اور سولجرز اورجے سی اوز نے اپنی ایک دن کی تنخواہ کورونا وَبا سے نمٹنے کیلئے قائم کیے گئے ایمرجنسی فنڈ میں دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ ڈی جی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ حکومت نے سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج کو طلب کیا ہے، عوام فوج اور حکومت سے تعاون کریں اور گھروں تک محدود رہیں،ہمیں ایک بار پھریکجاہو کر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، چیلنجز کا سامنا کرکے ہی قومیں آگے بڑھتی ہیں، تمام اسکول، شادی ہالز، سینما گھر، پلازے بند کردیئے گئے، تمام مذہبی، سیاسی و سماجی اجتماعات پر پابندی رہے گی، تمام ایئرپورٹس بھی انٹرنیشنل فلائٹس کے لئے 4 اپریل تک بند رہیں گے، حفاظتی اقدامات کے تحت بارڈرز بند کئے گئے ہیں، اصل بارڈرانسان اور کورونا وائرس کے درمیان ہے جو ہم نے خود بند کرنا ہے، خود کو گھروں تک محدودرکھیں، کورونا وائرس کے خلاف بہترین دفاع آئسولیشن سے بھی زیادہ باہمی تعاون ہے،مقبوضہ کشمیر کے عوام اس جدوجہد میں ضرور کامیاب ہو نگے۔ پیر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابرافتخار نے کہا کہ 23 مارچ 1940 میں قیام پاکستان اس قوم کا مقصد اور منزل تھی، اس کے بعد جب بھی اس قوم پر کوئی برا وقت آیا تو مل کر اس کا مقابلہ کیا، قدرتی آفت نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور آج ایک بار پھریکجاہو کر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، چیلنجز کا سامنا کرکے ہی قومیں آگے بڑھتی ہیں ان حالات میں عوام کا ریاست پر بھرپور اعتماد ہی اس صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے اور اس سلسلے میں ہر کوشش اور تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز شام ایک خصوصی کور کمانڈر کانفرنس میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان کی سول اداروں کی امداد کے لیے تیاری اور لائن آف ایکشن کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت افواج پاکستان کو مدد کے لیے طلب کر لیا ہے، پاکستان آرمی کی لائن آف کنٹرول اور مغربی سرحد پر بھاری نفری کی تعیناتی کے باوجود آرمی چیف نے تمام دستیاب نفری اور افواج پاکستان کے تمام دستیاب طبی وسائل کو ضرورت کے مطابق تعینات کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کے تحت صرف ہسپتالوں، کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے والی دکانیں، کھانے پینے اور طبی سامان تیار کرنے والی فیکٹریاں اور میڈیکل اسٹورز کھولے جاسکیں گے، تمام اسکولز، ریسٹورنٹس، سینما، شادی ہالز، سوئمنگ پولز بند رہیں گے، ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی ہوگی، انٹرسٹی ٹرانسپورٹ صرف فوڈ سپلائی چین کیلئے استعمال ہوگی۔انہوں نے کہا کہ شہروں کے اندر ہر قسم کی پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی، تمام ایئرپورٹس بین الاقوامی پروازوں کیلئے 4 اپریل تک بند رہیں گے، پیٹرول پمپس اور منڈیاں صوبائی حکومتوں کے نوٹی فکیشنز کے مطابق کھل سکیں گی، اس حوالے سے صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبوں میں مزید گائیڈ لائنز جاری کریں گی جنہیں سول اداروں کے ساتھ مل کر یقینی بنایا جائیگا۔انہوں نے کہاکہ حفاظتی اقدامات کے تحت تمام بارڈرز کو بند کر دئیے گئے ہیں تاہم اصل بارڈر انسان اور کورونا وائرس کے درمیان ہے جس پر ہم نے قابو پانا ہے، یہ انفرادی، خاندانی، برادری اور معاشرے کے طور پر مشکل اور سخت فیصلے کرنے کا وقت ہے، انفرادی نظم و ضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو کامیاب کرے گا۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف بہترین دفاع آئسولیشن سے بھی زیادہ باہمی تعاون ہے، یہ چیلنج بہت بڑا اور مشکل ہے لیکن دنیا نے 2005 کے زلزلے، 2010 کے سیلاب اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس قوم کے عزم و ہمت کو بخوبی دیکھا ہے، موجودہ چیلنج نے ایک بار پھر قومی طاقت و حوصلے کو آزمایا ہے لیکن اس بار خطرہ بلکل مختلف نوعیت کا ہے جو پہلے ہم نے اپنی زندگیوں میں نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تمام دستیاب ٹروپس کو سول انتظامیہ کی مدد کیلئے بھجوا دیا ہے، خطرے پر قابو پانے کیلئے پاک فوج قوم کے شانہ بشانہ ہے۔انہوں نے کہاکہ عوام سے درخواست ہے کہ فوج اور حکومت سے مکمل تعاون کریں اور اپنے گھروں میں محدود رہیں۔یوم پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آج کا دن کشمیری بہن بھائیوں کو بھی یاد کر نے کا دن ہے،جو بدترین ریاستی دہشت گردی اور اس قدرتی آفت کے مقابلے میں بے یارو مددگار ہو نے کے باوجوداپنے حقِ خود ارادیت کے لئے مزاحمت کی مثال بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اس جدوجہد میں ضرور کامیاب ہو نگے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اس وقت کرونا وائرس کا شدید چیلنج درپیش ہے، ان حالات میں عوام کا ریاست پر اعتماد ہی اس صورتحال سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں ہر کوشش اور وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ انفرادی، خاندان، کمیونٹی اور معاشرے کے طور پر مشکل اور سخت فیصلوں کا وقت ہے۔انہوں نے کہاکہ انفرادی نظم و ضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو کامیاب کرے گا۔ انہوں نے بتایاکہ اب تک ایک ملین سے زائد مسافروں کی سکریننگ یقینی بنائی گئی ہے۔، پچھلے 24گھنٹوں میں 12ہزار سے زائد سکریننگ ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ قرنطینہ سینٹر میں سیکورٹی اور دیگر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ بہادر اور غیور پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر افواجِ پاکستان کے ساتھ مل کر اس چیلنج کو بھی عبور کر لیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آرمی چیف نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ، بریگیڈئرز سے لیفٹیننٹ جنرل تک 3دن، کرنل تک کے عہدے کے آفیسرز نے2دن اور سولجرز اورجے سی اوز نے اپنی ایک دن کی تنخواہ اس وَبا سے نمٹنے کے لئے قائم کیے گئے ایمرجنسی فنڈ میں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آخر میں آپ سب سے کہوں گا کہ اپنی، اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنے بزرگوں کی صحت کی حفاظت کے لئے حکومتِ پاکستان، وزارتِ صحت اور ڈاکٹرز کی جانب سے جو ہدایات دِی جا رہی ہیں اْن پر ذمہ دار شہری کے طور پر بھرپور عمل کریں۔ خود کو اور اپنے پیاروں کو گھروں تک محدود رکھیں تاکہ ہم اس وبا کا مقابلہ کر سکیں،ان ہدایات پر عمل کر کے ہی گھبراہٹ اور خوف وہراس سے بچا جا سکتا ہے۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں