تازہ ترین
مقبوضہ کشمیر : کرونا کے باوجود بھارتی فوج کے تلاشی آپریشن جاری، 6افراد گرفتار
  24  مارچ‬‮  2020     |     سپیشل رپورٹس
مقبوضہ کشمیر میں کرونا وائرس کی وباء کے باوجود قابض فوج نے اپنی ظالمانہ کارروائیوں اور تلاشی آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں، قابض فوج نے 6 سے زیادہ افراد کو گرفتار کرنے کے بعد شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن میں اسلحہ اور گولہ بارود کا ذخیرہ برآمد کرنے کا دعوی کیا ہے۔ جنوبی ضلع پلوامہ میں فورسز پر دستی بم سے حملہ کیا گیاتاہم وہ پھٹ نہ سکا اس واقعے سے افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پتھرائوکے الزام میں اتر پردیش کی امبیڈکرجیل میں سزا کاٹنے والے کشمیری نوجوان بانڈی پورہ کے عادل بشیر میر کو کشمیر منتقل کر دیا گیا ۔ نوجوان کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت زیر آرڈر نمبر BMD 43/ PSA / 2019کے تحت پچھلے سال21 اگست کو امبیڈکر جیل یوپی منتقل کیا گیا تھا۔ اترپردیش کی مختلف جیلوں میں200 سے زیادہ کشمیری بند ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کے وبا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے انتظامیہ نے31 مارچ تک پوری یونین ٹریٹری میں دفعہ144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ حکم چیف سیکریٹری بی وی آر سبھرانیم نے جاری کیا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں3938 افراد کو زیرنگرانی رکھا گیا ہے۔2727 افراد کو گھریلو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جب کہ 59 افراد ہسپتال قرنطینہ میں ہیں۔240 نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں جن میں سے 229 کو منفی قرار دیا گیا ہے۔ سائوتھ ایشین وائر کے مطابق سینی ٹائزروں کی قیمت میں اضافے کے پیش نظر بھارتی حکومت نے امسال جون تک200 ملی لیٹر بوتل کی زیادہ سے زیادہ قیمت100روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 2پلائی سرجیکل ماسک کی قیمت8 اور 3پلائی سرجیکل ماسک کی قیمت10روپے مقرر کی گئی ہے۔ سائوتھ ایشین وائر کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے تھرمل صلاحیت پر مبنی ڈرون کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان سے آنے والے ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ کے ایک شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس بات کا اعتراف اس نے از خود ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پلوامہ کے سامنے کیا ہے۔ اس شخص پر الزام ہے کہ اس نے اپنی ٹریول ہسٹری چھپائی ہے۔ اس شخص کو اسکریننگ اور نگرانی کرنے والی ٹیموں نے روکنے کی کوشش کی تاہم وہ روپوش ہوگیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں یکم مارچ 2020سے لیکر 22مارچ 2020 تک 2ہزار افراد عمرے کی ادائیگی سے محروم ہو گئے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حج و عمرہ کمپنیز کا کہنا ہے کہ 200کمپنیا ں بند ہونے کے قریب ہیں جسکی وجہ سے 2ہزار سے زائد خاندانوں کا روز گار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ آل جموں و کشمیر ایسوسی ایشن آف حج و عمرہ کمپنیز کے صدر فیروز احمد کا کہنا ہے کہ حج و عمرہ کرانے والی کمپنیوں کو زبردست مالی نقصان سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں