تازہ ترین
فواد چودھری کی ایل او سی کی طرف مارچ نہ کرنے کی اپیل
  7  اکتوبر‬‮  2019     |     پاک دفاع
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری نے ایل اوسی مارچ والوں سے اپیل کی ہے کہ ایل او سی کی طرف مارچ نہ کیا جائے، کنٹرول لائن پار کرنے کا مطلب ایک نئے وار زون میں داخل ہونا ہوگا، مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کشمیر آزادی مارچ والوں سے اپیل کی ہے کہ لائن آف کنٹرول پار کرنے کا مطلب ایک نئے وار زون میں داخل ہونا ہوگا۔ لہذا ایل اوسی کی طرف مارچ نہ کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرے۔ دوسری جانب آزادی مارچ کو کنٹرول لائن چکوٹھی سے 6 کلومیٹر دور ہی روک لیا گیا ہے۔ آزادی مارچ کے شرکاء نے جسکول کے مقام پر ہی دھرنا دے دیا ہے۔ واضح رہے مقبوضہ وادی میں معمولات زندگی 5 اگست سے مفلوج ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جبری پابندیاں اور کرفیو 63 ویں روز بھی جاری ہے۔ مقبوضہ وادی کی لوکل ٹرین سروس بھی 9 ہفتوں سے معطل ہے۔ اسی طرح امریکی کانگریس کے وفد نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔ آزاد کمشیر کا دورہ کرنے والوں میں سینیٹر کرس وان، میگی حسن اور پال جونز شامل ہیں۔ امریکی وفد نے صدر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر سے بھی ملاقاتیں کیں۔ دریں اثناں وزیراعظم آزادجموں وکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے امریکی سینیٹ کے اراکین پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی قراردادوںکے مطابق حل کے لئے ہندوستان پر دبائو ڈالیں۔ دوطرفہ مذاکرات کی بجائے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے پرامن حل کے لئے اقوام عالم اپنا کردار ادا کرے۔ مسئلہ کشمیر کوئی زمینی تنازعہ نہیں ہے۔ پاکستان نے کشمیر پر کبھی اپنا حق نہیں جتایا بلکہ وہ ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے آواز اٹھاتا رہا۔ امریکی سینیٹرز کرس وان ہولن اور میگی حسن کو مقبوضہ کشمیر میں انسانیت سوز مظالم پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیراقوا م متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل طلب مسئلہ ہے جس پر اقوا م متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قرادادوں موجود ہیں اور اس کا حل ان قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے گزشتہ سات دھائیوں کے دوران انسانی تاریخ کے بدترین مظالم ڈھائے گئے۔5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون اور کرفیو ہے، شہری گھروں میں محصور ہیں ان کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں وہاں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے، بھارت کے اقدامات کی وجہ سے بڑے انسانی المیہ کے پیدا ہونے کا امکان ہے۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔