تازہ ترین
بھارت مسئلہ کشمیر پر پاکستان ، ترکی اور ملائیشیا کے اتحاد سے پریشان
  5  اکتوبر‬‮  2019     |     سپیشل رپورٹس
بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے متعلق ترکی اور ملائشیا کے حالیہ بیانات پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے داخلی معاملات پر اس طرح کے تبصرے غیر ضروری ہیں۔اور نہیں دوست ملکوں کے بارے میں اس طرح کے بیانات سے گریز کرنا چاہئیے۔وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے معمول کی پریس کانفرنس میں کہا کہ ترکی کے ساتھ بھارت کے دوستانہ تعلقات ہیں اور اس لیے ہمیں افسوس ہے کہ 6 اگست کے بعد ترک حکومت کی طرف سے بار بار بیانات آ ئے ہیں۔ ملائیشیا سے بھی بھارت کے بہت اچھے تعلقات ہیں۔ملائشین حکومت کو بھی ہمارے دوستانہ تعلقات کا خیال رکھنا چاہئیے اور ایسے بیانات سے بچنا چاہئیے۔جموں کشمیر نے بھی دیگر ریاستوں کی طرح ہندوستان کے ساتھ دستاویز الحاق پر دستخط کیے تھے۔ انہوں نے الزم لگایا کہ پاکستان نے حملہ کر کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا۔جموں و کشمیر میں حالیہ دنوں میں جو پیش رفت ہوئی ہے وہ ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے اور اس میں کسی تیسرے ملک کا کوئی رول نہیں ہے۔ اس سے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ نے تسلیم کیا ہے۔ ہمیں وزیراعظم مہا تیر محمد کے تبصروں پر نہایت حیرت ہوئی ہے اور افسوس بھی ہوا ہے۔یہ بیانات حقائق پر مبنی نہیں ہے۔واضح رہے کہ ترکی اور ملائشیا کے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ ترک پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہاہے کہ کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا ساتھ دینا ترکی کی ذمہ داری ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترک پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر مصطفی سینٹوپ نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ترکی اس مسئلے پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک قوم جنگ آزادی کے دوران ہندوستانی مسلمانوں کی مدد کو نہیں بھول سکی اور نہ ہم نے اس دوستی کو بھلایا ہے۔ترک اسپیکر کا کہنا تھا کہ بھارت نے 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا رکھا ہے اور وہاں پرانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، سیکڑوں لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور پوری سیاسی قیادت کو قید کررکھا ہے۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔