تازہ ترین
کشمیری لائن آف کنٹرول کو نہیں مانتے یہ 1948ء میں سیز فائر لائن قرار دی گئی تھی
  5  اکتوبر‬‮  2019     |     پاک دفاع
سینئیر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیری لائن آف کنٹرول کو نہیں مانتے یہ 1948ء میں سیز فائر لائن قرار دی گئی تھی۔ اسے 1958ء میں مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری غلام عباس نے توڑنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ شملہ معاہدے کے بعد یہ ایل او سی قرار پائی آج آزاد کشمیر کی سب پارٹیاں اسے توڑنا چاہتی ہیں ان کی یہ خواہیش بھارتی بیانیہ کیسے ہو گئی؟ایک اور ٹویٹر پیغام میں سینئری صحافی حامد میر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو چاہئیے تھا کہ اقوام متحدہ سے واپسی پر آزاد کشمیر کی سب جماعتوں کو اعتماد میں لیتے اور لائن آف کنٹرول کراس کرنے کے معاملے پر ان سے بات چیت کرتے ایل او سی توڑنے کی خواہش کو بھارت کے ہاتھوں میں کھیلنے کے مترادف قرار دینا غلط فہمیاں پیدا کرنے کا باعث بنے گا۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ کسی نے لائن آف کنٹرول کراس کی تو وہ بھارتی بیانیے کی سپورٹ ہوگی، آزاد کشمیر کے لوگ مقبوضہ وادی کو دیکھ کر تکلیف میں ہیں، ان کے درد کو سمجھتا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ بھارتی فوج نے غیر انسانی عمل کرتے ہوئے 2 ماہ سے کرفیو لگا رکھا ہے، ایل او سی کراس کرنا بھارتی بیانیے کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہو گا۔ ایل اوسی کی خلاف ورزی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم بڑھانے کا بہانہ فراہم کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ بھارتی بیانیہ کشمیریوں کی مقامی جدوجہد کواسلامی دہشتگردی قراردینےکی کوشش کرتا ہے۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔