تازہ ترین
نیتن یاہو نے مغربی کنارے کے دیگر علاقوں کے اسرائیل سے الحاق کا اعلان روک دیا
  16  ستمبر‬‮  2019     |     بین الاقوامی دفاع
اسرائیل کے قومی سلامتی کے اداروں کے سربراہان نے وزیراعظم نیتن یاھو پر دبائو ڈال کر مقبوضہ وادی اردن کے اسرائیل سے الحاق کے اعلان سے متعلق ان کا موقف تبدیل کردیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سینئر اسرائیلی عہدیداروں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو وادی اردن اورمغربی کنارے کے دیگر علاقوں کے اسرائیل سے الحاق کا اعلان کرنے سے روک دیا۔ مقامی اخبار نے تل ابیب کے با خبر سیاسی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف اویو کوخاوی اورداخلی سلامتی کے ذمہ دار ادارے شن بیٹ کے سربراہ ، نڈاو ارگامن نے نیتن یاہو کو مغربی کنارے کے بہت بڑے علاقوں شمالی بحر مردار، غرب اردن کی یہودی کالونیوں اور وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اعلان سے روک دیا۔ ذرائع کے مطابق نیتن یاہو نیوادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان اس وقت کیا تھا جب انہیں احساس ہوا کہ آئندہ ہفتے ہونے والے کنیسٹ کے انتخابات میں ان کی کامیابی کے امکانات کم ہو رہے ہیں۔ اخبار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی وزیراعظم نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرنا تھا مگر ان کے اور سیکیورٹی اداروں کے سربراہان کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے تک گرما گرم بحث ہوئی جس میں خفیہ ادارے اور فوج کے سربراہان نے نیتن یاھو کو وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اعلان کے مضمرات سے آگاہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نیتن یاھو نے 90 منٹ پریس کانفرنس تاخیر سے کی۔ سیکیورٹی سربراہان نے نیتن یاھو پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد وادی اردن کے حوالے سے کیا گیا اپنا اعلان واپس لیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اسرائیلی قومی سلامتی کے اداروں کے سربراہان کی طرف سے نیتن یاھو کو باور کرایا گیا کہ وادی اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا اعلان اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔سکیورٹی کے سربراہوں نے اشارہ کیا کہ اس طرح کا اعلان غیر ذمہ دارانہ ہوگا ، کیونکہ اس سے بڑے خطرات لاحق ہوجائیں گے۔ شن بیٹ کے سربراہ اور آرمی چیف کا مؤقف واضح تھا تاہم قومی سلامتی کے مشیر بن شبات کا موقف سامنے نہیں آیا ہے۔ اٹارنی جنرل افیحائی منڈلبلیٹ کی طرف بھی وزیر اعظم کو کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اعلانات پرعمل درآمد بہت پیچیدہ مسئلہ ہے اور ایسے اقدام کے لیے عوام کے بھاری مینڈیٹ کی ضرورت ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ نیتن یاھو نے پریس کانفرنس سے 10منٹ قبل سلامتی کے اداروں کے سربراہان سے رابطہ کیا۔ اس موقع پر نیتن یاھو نے انتہائی تلخ لہجہ اپنایا مگر سیکیورٹی سرہرابان نے وزیراعظم کی کوئی چیخ پکار نہ سنی۔ انہوں نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انتہائی سخت زبان استعمال کی۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔