تازہ ترین
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے اقدامات پر گہری تشویش ہے،بھارت کشمیر میں کرفیو ختم اور بنیادی سہولیات فراہم کرے:سربراہ انسانی حقوق اقوام متحدہ
  11  ستمبر‬‮  2019     |     سپیشل رپورٹس
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کی سربراہ مشیل باشیلے نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت کے اقدامات کے بعد انسان حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔ جنیوا میں اقوا متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں افتتاحی تقریر میں مشیل باشیلے نے کہا کہ 'بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات کے کشمیریوں پر پڑنے والے اثرات پر مجھے گہری تشویش ہے'۔ انہوں نے اپنی تقریر میں مقبوضہ کشمیر میں 'انٹرنیٹ اور مواصلاتی ذرائع اور پرامن اجلاس پر پابندی اور مقامی سیاسی قیادت اور کارکنوں کی گرفتاریوں' کو بھی اجاگر کیا۔ مشیل باشیلے کا کہنا تھا کہ میں بھارت اور پاکستان دونوں ممالک پر زور دیتی ہوں کہ وہ خطے میں انسانی حقوق کی پاسداری اور احترام کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ 'میں خاص کر بھارت سے اپیل کرتی ہوں کہ لاک ڈاؤن یا کرفیو میں نرمی لائیں، شہریوں کی بنیادی ضروریات تک رسائی کو یقینی بنائے اور جنہیں گرفتار کیا گیا ہے ان کے حقوق کا احترام کیا جائے'۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ 'مقبوضہ کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے کسی قسم کے فیصلے کے حوالے سے وہاں کے شہریوں سے مشاورت اور ان کی شمولیت ضروری ہے'۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو محرم کے مہینے میں سخت پابندیوں کا سامنا ہے اور اس حوالے سے جلسے جلوسوں پر مکمل پابندی ہے۔ خیال رہے کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آئین کا آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کردیا تھا۔ مشیل باشیلے نے اپنی تقریر میں نہ صرف کشمیر بلکہ بھارت کی ریاست آسام میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بھی نمایاں کیا۔ بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں سمیت دیگر شہریوں کی متنازع رجسٹریشن پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس کے حوالے سے کہا جارہا ہے کہ اس اقدام سے یہ خوف پیدا ہوا ہے کہ بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مسلمانوں کو ریاست سے بے دخل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ رجسٹریشن کے نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے ریاست میں بڑے پیمانے میں بے یقینی اور خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ یاد رہے کہ آسام میں 31 اگست کو شہریوں کی رجسٹریشن کے نام پر تقریباً 19 لاکھ افراد کو حتمی فہرست سے خارج کردیا گیا تھا۔


رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔