تازہ ترین
افغان طالبان کا امریکی صدرکےامن مذاکرات منسوخی کے اعلان پربیان
  9  ستمبر‬‮  2019     |     بین الاقوامی دفاع
افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکا نے افغانستان حاصل کرنے کی18 سال جدوجہد کی، لیکن امریکا پر واضح کردیا ہم اپنا وطن کسی کے حوالے نہیں کرینگے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امن مذاکرات منسوخی کے اعلان پراپنے ردعمل میں کہا کہ امریکا پر18سال کی جدوجہد نے واضح کردیا ہے کہ ہم اپنا وطن کسی کے حوالے نہیں کرینگے۔ افغان طالبان نے کہا کہ طالبان اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کے درمیان انتہائی مفید مذاکرات ہونے کے بعد امن معاہدہ مکمل تیار تھا ۔امریکی مذاکراتی ٹیم سات ستمبر تک ہونے والی پیشرفت سے راضی تھی اور اچھے ماحول میں مذاکرات پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تھے دونوں فریقین معاہدے کے اعلان اور دستخط کیلئے تیاریوں میں مصروف تھے۔ معاہدے پر دستخط اور باضابطہ اعلان کے بعد 23ستمبر کو بین الافغانی مذاکرات کیلئے تاریخ طے ہوگئی تھی۔ خطے اور دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے اس مذاکراتی عمل کی حمایت کی تھی ۔اب جبکہ امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا عمل روک لیا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہوگا اس پر اعتبار کو نقصان پہنچے گا ۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کا امن کے خلاف موقف دنیا پر ظاہر ہوجائیگا ان کے جان و مان کے نقصان میں اضافہ اور سیاسی معاملات میں ان کا کر دار متزلزل ہو جائیگا ۔ مذاکرات جاری رکھنے سے طالبان نے دنیا پرثابت کر دیا کہ لڑائی ان پر زبردستی تھونپی گئی ہے اور یہ کہ لڑائی کو سیاسی عمل سے ختم کر نے کا معاملہ ہو تو طالبان اپنے اس موقف پر قائم ہیں ۔ معاہد ے کے اعلان سے پہلے کابل میں ایک دھماکے کی بنیاد پر مذاکراتی عمل روکنا غیر منطقی سوچ کو ظاہر کرتا ہے ۔بیان میں کہاگیاکہ کابل میں دھماکے سے پہلے امریکی اور ان کے حمایتی افغان سکیورٹی فورسز نے بہت سے حملوں میں سینکڑوں افغانوں کو شہید کیا۔ واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابل حملے کو جواز بنا کر طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے طالبان رہنماؤں سے اتوارکو ہونے والی خفیہ ملاقات منسوخ کردی ہے اورکہاہے کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بارگیننگ پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اسے مزید خراب کردیا ہے ۔ اگر طالبان جنگ بندی نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت موجود نہیں۔ امریکی ٹی وی کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہاکہ یہ بات شاید کسی کو بھی نہیں معلوم کہ طالبان کے اہم رہنما اور افغان صدر علیحدہ علیحدہ مجھ سے کیمپ ڈیوڈ میں خفیہ ملاقات کرنے والے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ طالبان امریکا آرہے تھے، بدقسمتی سے جھوٹے مفاد کے لیے انہوں نے کابل میں حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں ہمارا ایک عظیم سپاہی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ ملاقات فوری طور پر منسوخ کرتا ہوں امن مذاکرات معطل کرتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بارگیننگ پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں، انہوں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اسے مزید خراب کردیا ہے۔اپنے ٹویٹر پیغام پر امریکی صدر نے کہا کہ جھوٹے مفاد کے لیے طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ مزید کتنی دہائیوں تک لڑنا چاہتے ہیں ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر طالبان جنگ بندی نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت موجود نہیں۔خیال رہے کہ کابل میں گاڑی کے حملے میں امریکی سپاہی اور رومانیہ کے سروس رکن ہلاک ہوگئے تھے۔حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی جبکہ ان کے امریکی وفد سے مذاکرات بھی جاری تھے۔


رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔