تازہ ترین
کابل، امریکی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکا، 10ہلاک
  6  ستمبر‬‮  2019     |     دہشت گردی
افغانستان میں طالبان خودکش حملہ آور کے ایک فوجی قافلے پر دھماکے میں رومانیہ اور امریکی فوجی سمیت 10افراد ہلاک جبکہ 40زخمی ہوگئے ہیں ،دوسری طرف طالبان حملوں پر انٹیلی جنس کی ناکامی پر افغان انٹیلی جنس سربراہ معصوم ستانکزئی نے استعفے دیدیا جسے صدر نے قبول کرلیا۔افغان صدر اشرف غنی اور افغان چیف ایگزیکٹو نے حملے کی مذمت کی ہے،افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ خون بہانے والوں سے امنکی توقع بے معنی ہے،افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبدللہ نے کہا کہ ایسے حملوں سے افغان عوام میں طالبان کیلئے نفرت میں اضافہ ہوگا۔ادھرطالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذکورہ حملے میں ڈبل کیبن بلٹ پروف گاڑیوں کونشانہ بنایاگیا ہے اور اس میں 12 فوجی افسران جبکہ 8 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں ،تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے نزدیک خودکش دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق دھماکے کے مقام سے کچھ فاصلے پر امریکی سفارت خانے اور نیٹو کے صدر دفتر کے علاوہ کئی اہم عمارتیں موجود ہیں اور یہ انتہائی حساس علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ششدرک نامی اس علاقے میں افغانستان کی سکیورٹی ایجنسیوں کے بھی دفاتر ہیں۔دھماکہ جمعرات کو ایک کار میں سوار خودکش حملہ آور نے کیا جب اس نے ایک مرکزی سڑک پر کار کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکے سے قریب کھڑی 12 گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں اور قریبی عمارتوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق دھماکے میں 10 افراد ہلاک جب کہ 42 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں اسپتالوں میں طبّی امداد دی جا رہی ہے۔ترجمان وزارتِ داخلہ کے مطابق دھماکے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ششدرک کی چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش تھی۔دوسری جانب طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے غیر ملکیوں کی تین گاڑیوں کو نشانہ بنایا ہے جو ششدرک کے اس علاقے میں داخل ہورہی تھیں جہاں افغان سکیورٹی اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔


رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔