تازہ ترین
جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے شمالی کوریا چوریاں کرنے لگا
  7  اگست‬‮  2019     |     سائیبر سکیورٹی
کسی دور میں لوٹ مار کے لیے بڑے بڑے ڈاکے مارے جاتے اور کئی ماہ تک ریکی بھی کی جاتی تھی مگر آ ج اربوں کھربوں لوٹنے پر چند سیکنڈز لگتے ہیں۔چونکہ اب لوگ پیسے گھروں میں تو رکھتے نہیں اور نہ ہی زیورات اور دیگر قیمتی سامان رکھتے ہیں یہ اس لیے ہے کہ بینکوں کی موجودگی نے سب کچھ آسان کر دیا ہے۔لہذٰا اب ڈکیت بھی ماڈرن ہو گئے ہیں وہ بینکوں کی تجوریاں بھی خالی کرنے لگ گئے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سائبر کرائم نے جنم لیا ہے جس کے نتیجے میں آپ کے اکاﺅنٹ سے سارے پیسے ٹرانسفر ہو جاتے ہیں اور آپ کوپتا بھی نہیں چلتا۔ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا نے بین الاقوامی سطح پر مختلف بینکوں اور کرپٹو کرنسی کی تجارت کرنیوالے اداروں پر بڑے سائبر حملے کرکے اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کیلئے 2 ارب ڈالر بٹورے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی ادارے کی سلامتی کونسل کی ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیونسٹ شمالی کوریا گزشتہ کافی عرصے سے اپنے ہتھیاروں کے پروگرام کیلئے مالی وسائل اپنے ہیکرز کی طرف سے بیرون ملک سائبر حملوں کے ذریعے حاصل کرتا آیا ہے۔ ان حملوں میں ناصرف بڑے بڑے بینکوں کے آن لائن نظاموں کی ہیکنگ کی گئی بلکہ اس دوران بہت مہنگی کرپٹو کرنسی کی تجارت کرنیوالے کاروباری اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملے ناصرف بہت ہی جدید اور 'اسٹیٹ آف دی آرٹ‘ انداز میں کئے گئے بلکہ ان کا بروقت پتہ چلانا اب تک اس لئے بھی بہت مشکل ہے کہ ایسی کارروائیاں اور بھی زیادہ منظم اور نپے تلے طریقے سے کی جانے لگی ہیں۔یہ رپورٹ غیر جانبدار بین الاقوامی ماہرین کے ایک گروپ نے سلامتی کونسل کیلئے تیار کی ہے، جس میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ پیانگ یانگ نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران اقوام متحدہ کی عائد کردہ بین الاقوامی پابندیوں کا کس حد تک احترام کیا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی طرف سے سائبر حملے مزید وسیع اور جدید تر ہوتے جا رہے ہیں۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔