تازہ ترین
بھارت نے ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد چاند پر اپنا دوسرا مشن ’چندریان ٹو‘ بھیج دیا
  23  جولائی  2019     |     ٹیکنالوجی
بھارت نے ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد چاند پر اپنا دوسرا مشن ’چندریان ٹو‘ بھیج دیاابتدائی طور پر بھارت کو ’چندریان ٹو‘ کو گزشتہ ہفتے 15 جولائی کو بھیجنا تھا، تاہم تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس مشن کو نہیں بھیجا جا سکا تھا۔یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارت نے اپنا خلائی مشن چاند پر بھیجا ہے اور اگر اس بار انڈیا کا خلائی مشن کامیابی سے چاند پراتر گیا تو بھارت چاند پر پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ اس سے بھارت نے 2008 میں بھی چاند پر خلائی مشن بھیجا تھا، تاہم وہ مشن کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔اس بار بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے، حکومت اور سائنس دانوں کو یقین ہے کہ انہیں کامیابی ملے گی۔خلائی مشن ’چندریان ٹو‘ کو ریاست آندرا پردیش کے شہر نیلور کے سری ہری کوٹا کے مقام پر قائم ستیش دھون اسپیس اسٹیشن سے تاریخی مشن پر بھیجا گیا۔ ’چندریان ٹو‘ کو 22 جولائی بروز پیر کی دوپہر 2 بج کر 43 منٹ پر خلا میں چھوڑا گیا اور اس تاریخی لمحے کو بھارت کے متعدد ٹی وی چینلز نے براہ راست دکھایا۔ ’چندریان ٹو‘ نامی مشن کو بھارت میں تیار کردہ دیسی ساخت کے راکٹ میزائل جی ایس ایل وی ایم مارک تھری کے ذریعے بھیجا گیا۔اس مشن میں ایک چانڈ گاڑی، لونر لینڈر اور روور سمیت 13 سائنسی مشینیں، کیمرے اور ا?لات بھیجے گئے ہیں جو چاند کے تاریک حصے پر تحقیقات کریں گے۔ چ*بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے ’انڈین اسپیس ریسرچ ا?رگنائیزیشن (اسرو) کے مطابق کھدائی مشین، لینڈنگ مشین اور موبائل مشین سمیت اعلیٰ درجے کی کوالٹی کا کیمرا بھی چاند پر بھیجا گیا ہے جو چاند کے تاریک حصے پر پانی اور زندگی کی تلاش سمیت دیگر معاملات کی تحقیق کریں گے۔ اسرو کے مطابق چاند پر بھیجا گیا خلائی مشن 23 دن تک زمین کے مدار میں ہی رہے گا اور 30 کے بعد وہ چاند کے مدار میں شامل ہوجائے گا۔’چندریان ٹو‘ 30 سے 47 ویں دن تک چاند کے مدار میں ہی سفر کرے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ 48 ویں دن مشن چاند کے تاریک ترین جنوبی قطب حصے میں اترے گا۔چاند پر بھیجے گئے مشن کو جس میزائل جی ایس ایل وی ایم مارک تھری راکٹ سے بھیجا گیا ہے اس میں 110 ٹن سے زائد ایندھن بھرا گیا ہے اور مجموعی طور پر اس راکٹ کا وزن 600 ٹن سے زائد ہے۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔