تازہ ترین
ڈی آئی خان ، پولیس چوکی پر فائرنگ ، نعشیں ہسپتال منتقل کرتے خودکش حملہ، 9شہید،6اہلکار شامل، 25زخمی
  22  جولائی  2019     |     دہشت گردی
ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس چوکی پر فائرنگ میں 2 اہلکاروں کی شہادت کے بعد سول ہسپتال ٹراما سنٹر میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 4پولیس اہلکاروں اور کمسن بچی سمیت 9افراد شہید، 8پولیس اہلکاروں اور کمسن بچے سمیت 30افراد زخمی ہو گئے‘ بچے سمیت متعدد شدید زخمی افراد کو ابتدائی طبی امداد کے بعد آرمی ہیلی کاپٹر میں پشاور اور اسلام آباد شفٹ کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ صبح تھانہ ڈیرہ ٹائون کی حدود میں کوٹلہ سیداں پولیس چیک پوسٹ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے چیک پوسٹ پر تعینات ایف آر پی پولیس کے دو اہلکار ایل ایچ سی جہانگیر سکنہ کورائی اور کانسٹیبل انعام اللہ سکنہ نون نواب موقع پر ہی شہید ہوگئے، جن کو ریسکیو 1122کی ایمبولینس کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ منتقل کیا گیا، اس دوران دیگر پولیس افسران و اہلکاروں کے علاوہ شہید اہلکاروں کے رشتہ داران اور دیگر عام مریض بھی موجود تھے کہ اس اثناء میں ہسپتال کے ٹراما سنٹر کے باہر مبینہ خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے ہر طرف تباہی پھیل گئی۔ دھماکے کے نتیجے میں ایلیٹ پولیس فورس کے ہدایت اللہ اور خلیل سمیت 4 اہلکار پانچ سالہ مریم ولد مشتاق، ضمیر حسین ولد محمد نذیر اور ایک نامعلوم شخص شہید ہوگئے جبکہ پولیس اہلکاران اسلام اللہ، نصیب اللہ، کاشف سجیل، فضل الرحیم اور ڈی ایس بی اہلکار عابد خٹک سمیت نعیم قریشی، محمد عدیل، حیات، سہیل، حمزہ، محمد آصف، مشتاق، عظیم، فضل الرحمن اور محمد سلیمان سمیت30افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر ریسکیو1122، سرکاری اور نجی ایمبولینسز کی مدد سے سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں متعدد افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور دھماکے سے ٹراما سنٹر کی کھڑکیاں اور دروازے ٹوٹ کر دور جاگرے اور ٹراما سنٹر کے باہر کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکل بھی تباہ ہوگئے۔ دھماکے کے بعد علاقہ میں خوف ہراس پھیل گیا۔ بم ڈسپوزل ذرائع کے مطابق دھماکے میں 8سے10کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خودکش دھماکہ خاتون حملہ آور نے کیا تاہم بعد ازاں خود کش حملہ آور کی باقیات کے جائزہ اور مبینہ طور پر کالعدم تحریک کی جانب سے جاری بیان کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور خاتون نہیں بلکہ مرد تھا۔ ادھر ضلعی انتظامیہ کے مطابق شدید زخمی ایک بچے کو آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کر دیا گیا جبکہ دھماکے میں شہید ایلیٹ فورس اہلکاروں کے جسد خاکی بھی پولیس لائن میں نماز جنازہ ادائیگی کے بعد آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ان کے آبائی علاقے دیرپہنچائے گئے۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسر سلیم ریاض کا کہنا ہے کہ صبح 7 بجکر 45 منٹ پر 4 موٹر سائیکلوں پر نامعلوم مسلح افراد نے چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ فائرنگ کے واقعہ کے بعد زخمیوں کو جس ہسپتال لے جایا گیا تھا وہاں خودکش حملہ ہوا۔ ادھر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے اپنے ایک ساتھی کی ہلاکت کا بدلہ قرار دیا۔ ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق اس حملے میں اس کے ایس ٹی ایف اور ٹی ایس جی نامی ذیلی دہشت گرد ٹیموں نے کی۔ دریں اثناء وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے واقعہ کا نوٹس لے لیا اور آئی جی پولیس نے رپورٹ طلب کر تے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ادھر صدر مملکت عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو ہر ممکن علاج معالجہ فراہم کرنے اور دہشتگردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی ہے۔گورنر کے پی شاہ فرمان، مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان، مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب، جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، سیکرٹری جنرل امیر العظیم، لیاقت بلوچ و دیگر سیاسی رہنماؤں نے دہشتگردی کی مذمت کی ہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینٹیر رحمان ملک نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے خیبر پی کے حکومت سے ڈی آئی خان میں گزشتہ چھ ماہ میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کی تفصیلات طلب کر لیں۔ سینٹر رحمان ملک نے کہا کہ ہوم سیکرٹری و آئی جی پولیس خیبر پی کے کمیٹی کو رپورٹ وبریفنگ دیں۔


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔