تازہ ترین
اسرائیل فوج اور انٹلیجنس اداروں نے غزہ کارروائی میں ناکامی کا اعتراف کرلیا
  9  جولائی  2019     |     انٹیلی جینس
اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں 12 نومبر 2018ء کو کی گئی دراندازی کی کارروائی میں شرمناک شکست اور ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔عبرانی میڈیا کے مطابق صہیونی حکام کی طرف سے جنوبی غزہ میں مشرقی خان یونس کے مقام پر اسرائیلی اسپیشل فورسز کے کمانڈوز کی کارروائی میں فلسطینی تنظیم القسام کی کامیابی اور قابض فوج کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کی گئی اس کمانڈو کارروائی میں القسام بریگیڈکے مجاہدین نے اسرائیلی فوج کے اہم آلات اور دستاویزات قبضے میں لے لی تھیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خان یونس کمانڈو کارروائی مکمل طورپر ناکام رہی، اس کارروائی میں آپریشنل کا انچارج کرنل اور متعدد دیگر فوجی افسرہلاک کردیئے گئے اور کمانڈوز کو سامان اور آلات چھوڑکر واپس آنا پڑا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خان یونس کارروائی کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج کی اسپیشل یونٹ کی طرف سے آپریشن کیلئے حسب ضرورت تیار نہیں کی گئی تھی، کارروائی کی تیاری میں کئی سقم تھے، اس سے بھی خطرناک بات یہ تھی کہ آپریشن کے مطابق فورسز فراہم نہیں کی گئی تھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل گیڈی آئزن کوٹ اور خفیہ ادارے ’شاباک‘ کے سربراہ نداو ارگمان نے غزہ میں فوجی کارروائی کے دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کے گھیرے میں آنیوالے فوجیوں کو بچانے کیلئے فوری ریسکیو آپریشن کا حکم دیا۔ آئزن کوٹ نے اعتراف کیا کہ القسام بریگیڈ نے اسرائیلی فوجیوں کے آلات اور دستاویزات چھین لیں، جب فوجی خطرے میںپڑگئے تو انہیں بچانے کیلئے ایک ہیلی کاپٹر بھیجا گیا، آرمی چیف کو خطرہ تھا کہ خان یونس کارروائی میں شامل تمام کمانڈوز کو ہلاک کردیا جائے گا،جب القسام کے ایک کمانڈر نے اسرائیلی کمانڈوز سے اپنی شناخت ظاہر کرنے کو کہا تو اس نے اپنی شناخت ایک خاتون کے طور پرکرائی جب اس کی چھان بین کی گئی تو وہ خاتون ہلاک ہوچکی تھی، اس آپریشن میں زخمی ہونے والا ایک فوجی افسر ابھی تک ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔