تازہ ترین
خلیفہ حفتر کی فوج کے فضائی حملے کا ہدف حراستی مرکز میں اسلحہ ڈپو تھا‘نئی تفصیل سامنے آگئی
  9  جولائی  2019     |     ہتھیار
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں حال ہی میں تارکین وطن کے لیے قائم کردہ مرکز تاجورا پر مشرقی کمانڈر فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی قومی فوج ( ایل این ای) کے فضائی حملے کے بارے میں نئی تفصیل منظر عام پر آئی ہے اور یہ پتا چلا ہے کہ یہ مرکز قومی اتحاد کی حکومت کے تحت ملیشیا کے بھاری ہتھیاروں کے ڈپو اور عورتوں کی اسمگلنگ کے لیے بھی استعمال ہورہا تھا۔ تاجورا حراستی مرکز پر خلیفہ حفتر کی فوج کے فضائی حملے میں 53 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے تھے۔لیبیا میں اقوام متحدہ کے ایک مقامی ملازم نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’’تاجورا اور اس کے نزدیک واقع السابعہ حراستی مرکز قومی اتحاد کی حکومت کے وزیراعظم فائز السراج کی وفادار فورسز کے زیر استعمال تھے اور انھوں نے وہاں طیارہ شکن گولہ بارود ، میزائل نظام اور دوسرے ہتھیار ذخیرہ کررکھے تھے۔ اس کارکن نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ’’ ہم فضائی حملے کے بعد ان حراستی مراکز میں انسانی امداد مہیا کرنے کے لیے گئے تھے۔امدادی ٹیم نے تاجورا اور السابعہ میں ذخیرہ کیے گئے ہتھیاروں کو دیکھا تھا اور اپریل میں جنگ کے آغاز کے وقت سے انھیں وہاں رکھا گیا تھا۔ اس ذریعے نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ یہ حراستی مراکز جی این اے کے نزدیک شمار کی جانے والی ملیشیاؤں کے زیر اہتمام تھے۔ انھوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ ’’خود ساختہ فیلڈ مارشل خلیفہ حفتر کی فوج کی اپریل میں دارالحکومت طرابلس پر چڑھائی کے بعد سے انسانی اسمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے اور یہ حراستی مراکز لیبیا میں قحبہ گری کے مکروہ دھندے کے فروغ کا ذریعہ بھی بنے ہیں کیونکہ وہاں آنے والے تارکین وطن ِکو ’جنسی جنس ‘ کے طور پر آگے فروخت کردیا جاتا رہا ہے اور ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتے دیکھتے رہے ہیں‘‘ ۔ قبل ازیں خلیفہ حفتر کی لیبی قومی فوج نے ان دونوں حراستی مراکز پر بمباری کے بعد یہ موقف اختیار تھا کہ ایل این اے نے تارکینِ وطن کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا تھا ۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق ایک ہی احاطے میں واقع دو مختلف عمارتوں کو دو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔تاہم ان حملوں کا ہدف اسلحہ ڈپو کے بجائے تارکینِ وطن بن گئے تھے۔اقوام متحدہ کے اہل کار کا کہنا ہے کہ ان حراستی مراکز میں اسلحہ کی موجودگی خلیفہ حفتر کی فوج کو فضائی حملے اور اس میں بے گناہ افراد کی ہلاکت سے بری الذمہ قرار نہیں دلوا دیتی ۔ وہ اس انسانی المیے اور فضائی حملے میں انسانی جانوں کے ضیاع کی ذمے دار ہے کیونکہ ایل این اے کے طیاروں نے کیمپ کے اس حصے پر بمباری نہیں کی تھی جہاں اسلحہ ذخیرہ کیا گیا تھا بلکہ اس جگہ کو نشانہ بنایا تھا جہاں تارکینِ وطن کو رکھا گیا تھا۔


رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔