تازہ ترین
امریکہ کی ایران پر نئی پابندیاں: ایرانی وزیر خارجہ بات چیت کیلئے بھارت پہنچ گئے
  15  مئی‬‮  2019     |     بین الاقوامی دفاع
امریکا کی ایران پر نئی پابندیوں کے بعد بھارت کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری ترک کرنے کے فیصلے پر بات چیت کے لیے ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نئی دہلی پہنچ گئے۔واضح رہے کہ بھارت چین کے بعد ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا تاہم واشنگٹن کی جانب سے ایران پر پابندیوں کے دوبارہ اطلاق سے اس نے درآمدات ترک کردی ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید ظریف کا کہنا تھا کہ ’بھارت ہمارا سب سے اہم معاشی، سیاسی اور علاقائی شراکت دار ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم بھارت سے مختلف امور پر مشاورت کرتے رہتے ہیں اور میں اپنے ہم منصب سے خطے میں حالیہ پیش رفتوں اور باہمی تعلقات پر مشاورت کے لیے آیا ہوں ‘۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور 6 عالمی قوتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام محدود کرنے کے لیے کیا گیا معاہدہ ختم کرنے کے بعد واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایرانی تیل کی بر ا?مدات ختم ہوجائیں۔ جاوید ظریف کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے امریکا صورتحال کو کشیدگی کی طرف لے جارہا ہے، ہم کشیدگی نہیں چاہتے لیکن ہم نے ہمیشہ اپنا دفاع کیا ہے‘۔ایرانی حکام نے رواں ماہ بتایا تھا کہ ان پابندیوں سے ایرانی تیل کی در ا?مدات ا?دھی ہوکر 10 لاکھ بیرل فی دن سے بھی کم ہوگئی ہے جو گزشتہ سال 28 لاکھ بیرل فی دن تھی۔ان کے مطابق رواں ماہ بر ا?مدات مزید کم ہوکر 5 لاکھ بیرل فی دن ہوسکتی ہیں۔ایران-یورپی یونین مذاکرات کے حوالے سے معلومات رکھنے والے ذرائع کا کہنا تھا کہ ایران نے عالمی سطح پر جوہری معاہدے کے اندر رہنے کے لیے کم از کم 15 لاکھ بیرل فی دن کی بر ا?مدات برقرار رکھنے کا کہا ہے۔


رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔