تازہ ترین
اسرائیلی فوج نے دوماہ کے دوران 900 فلسطینی گرفتار کر لیے
  14  مئی‬‮  2019     |     سپیشل رپورٹس
فلسطین میں اسیران کے امور کے لیے کام کرنے والے اداروں کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے گذشتہ دو ماہ کے دوران 133 بچوں اور 23 خواتین سمیت مجموعی طورپر 900 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔ فلسطینی سرکاری محکمہ اموراسیران۔ کلب برائے اسیران، الضمیر فائونڈیشن برائے حقوق اسیران اور دیگر اداروں کی طرف سے مشترکہ طورپر جاری روپرٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ اور اپریل کیدوران اسرائیلی عدالتوں سے 112 فلسطینیوں کو بغیرکسی الزام کے انتظامی قیدکی سزائیں دی گئیں۔ یاد رہیکہ اسرائیلی جیلوں میں انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت 500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔رپورٹ میں مزید کہاگیا ہیکہ اسرائیلی جیلوں مجد، عوفر اور دامون میں 18 سال سے کم عمرکے 250 بچے اور 45 خواتین بھی قید ہیں جبکہ مجموعی طورپر اسرائیلی عقوبت خانوں میں 5700 فلسطینی قیدہیں۔ خیال رہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کی شبے کی بنیاد پر گرفتاریوں کے لیے برطانیہ کے دور کے انتظامی حراست کے قانون کو استعمال کرتا ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو کم سے کم تین ماہ اور زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کے لیے حراست میں لیا جاسکتا ہے اور اس کی حراست میں بار بار توسیع کی جا سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ میں اسرائیلی فوج نے چھاپہ مار کارروائیوں میں 20 فلسطینی بچوں کو گھروں سے حراست میں لیا۔ ان میں سے 12 کی راہ چلتیہوئے گرفتاری عمل میں لائی گئی جب کہ ایک بچے کو فوجی چوکی اور ایک کو حراستی مرکز میں طلب کرکے حراست میں لیا گیا۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔