تازہ ترین
ترکی نے صومالیہ میں اپنا سب سے بڑا غیر ملکی فوجی اڈہ قائم کر لیا
  5  اکتوبر‬‮  2017     |     شہ سرخیاں
صومالیہ میں قائم ہونے والا فوجی اڈہ یہ بات بھی یاد دلاتا ہے کہ ترکی کے بڑھتے ہوئے علاقائی اور قومی مسائل کے باوجود افریقہ اس کی عالمی وسعت کی حکمتِ عملی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
یہ 50ملین ڈالر سے بننے والا اڈہ اتوار30ستمبر کو کھولا گیا اور یہ10,000سے زائد فوجیوں کی تربیت کرے گا۔ یہ اقدا م الشباب دہشت گرد گروپ سے لڑنے کے لئے فوج اور پولیس کی سروسز کو ادارہ جاتی شکل دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ نیا اڈہ اس لئے بھی فوری اہمیت کا حامل ہے کیونکہ 2020میں افریقی یونین کی کثیر الملکی فوج کے جانے کی آخری تاریخ قریب آرہی ہے۔
صومالیہ میں اڈہ کھولنے سے ترکی تازہ ترین ملک بن گیا ہے جس نے افریقی قوم کے مرکز میں فوجی سہولت قائم کر لی ہے۔ اس ملک میں امریکہ بھی لوئر شابلی علاقے میں ایک اڈہ رکھتا ہے اور متحدہ عرب امارات بھی صومالیہ کے علاقے میں ایک اڈہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔
صومالیہ میں ترکی کی بڑھتی ہوئی مصروفیت نے اس جنگ زدہ خطے میں قابلِ امتیاز تبدیلیاں پیدا کی ہیں جو صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبے سے تعلیم اور تجارت میں نمایاں ہیں۔ ترکی نے صومالیہ میں انسانی مدد کے لئے کئی ملین ڈالر دئے ہیں اور خاص طور پر اس تباہ کن قحط کے دوران جس میں2011میں 25,000افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
2011میں اس وقت کے تر ک وزیرِ اعظم اور موجودہ ترک صدر رجب طیب اردگان کا صومالیہ کا دورہ دو دہائیوں میں کسی غیر افریقی ملک کے کسی اعلیٰ عہدیدار کا پہلا دورہ تھااور اردگان میں موغادیشو میں ترکی کا دنیا کا سب سے بڑا سفارت خانہ قائم کیا۔ ترکی نے اس ملک میں سکول، مساجد اور ہسپتال بھی تعمیر کئے اور اس میں ملک کا سب سے بڑا میڈیکل کمپلکس بھی شامل تھا۔

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

رابطہ کریں
   
(92) 51 2873311-12
   
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔