تازہ ترین
افغانستان میں داعش کے ٹھکانوں کو تباہ کر کے دم لیں گے، صدر اشرف غنی
ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کا تناسب 50فیصد تک بڑھانے کی دھمکی
ترکی قطر میں اپنی عسکری موجودگی میں اضافے کا منصوبہ بنا رہاہے،جرمن جریدہ
مریخ پر جوہری بم گرائیں تاکہ وہاں انسان بسائے جائیں، ایلون مسک
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں3 سال کی توسیع
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع خطے کے حالات کے پیش نظر کی گئی،موجودہ صورتحال میں پیغام دینا ضروری

مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر بھارت کے ایک ریٹائرڈ فوجی افسر جنرل بخشی کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں انہوں نے کارگل جنگ میں ہونے والے نقصان اور بی ایس ایف کے اہلکاروں کے مابین پاک فوج کے خوف کی تمام تر کہانی بیان کر دی ۔ اپنے ایک انٹرویو میں جنرل بخشی نے کہا کہ دشمن نے ساری ہائیٹس پکڑ رکھی تھیں ہماری جو پہلی پلٹن گئی وہ ان کی ٹھیک مار کے پیچھے تھی۔ دن میں کسی قسم کی کوئی حرکت کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، کھانا بنکرز میں بنتا تھا اور یہاں تک کہ بی ایس ایف کے اہلکاروں کو لیٹرین بھی بنکرز کے اندر ڈبوں میں کر کے باہر پھینکنی پڑتی تھی۔ کیونکہ دشمن سر کے اوپر ہوتا تھا اور چوبیس گھنٹے فائر ہوا تھا جس سے ہمارا بہت نقصان ہوا۔ اس کے بعد مہار پلٹن آئی اُس کا بھی بہت نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ایک چھوٹی سی کہانی سناتا ہوں، ہمارا ایک جگہ بی ایس ایف کا پوسٹ تھا جب میں بٹالین کمانڈر میں چارج لیا اور اس پوسٹ پر گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں تباہی پھری ہوئی تھی ، تمام بنکرز تباہ ہو چکے تھے اور سارے کے سارے بی ایس ایف کے جوان وہ ریورس پر تھے ۔ پوسٹ پر آگے کی جانب ایک بنکرز رہ گیا تھا جہاں ہمارا ایک حوالدار تھا جس نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ میرے دریافت کرنے پر اُس نے بتایا کہ سر ہماری بہت زیادہ بے عزتی ہوئی، پاکستان اپنی ائیرڈیفنس گن کی توپ لے آیا جس کی رینج میری توپ سے زیادہ ہے۔ پاکستان نے فائر کیا تو یہاں ہمارے پاس سو کے قریب جو مٹی کے تیل کے بیرل تھے وہ سب کے سب جل گئے۔ اس کے بعد بی ایس ایف کے لڑکے گھبرا گئے اور آگے کی طرف صرف وہ حوالدار ہی تھا۔ حوالدار نے بتایا کہ پاکستانیوں نے ہمیں اچھی طرح مار لگا کر اپنے اپنے بنکرز سے نکل کر چھت پر بھنگڑا کیا اور ہماری بہت بے عزتی ہوئی۔ انہوں نے مزید کیا کہا آپ بھی دیکھیں:
بھارت نے آبی جارحیت کا ایک اور منصوبہ بنا لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیا کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی وزیر گیجندرا سنگھ شیکھاوت نے پاکستان کو سپلائی کیا جانے والا پانی بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھارتی وزیر گیجندرا سنگھ شیکھاوت نے بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سندھ طاس معاہدے کو نہیں چھیڑیں گے لیکن جو ہمارے حق کا پانی ہے وہ ہم واپس لے لیں گے تاکہ ہم اس نے اپنی وزراعت اور پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے پر کام شروع ہو گیا ہے ، ہم کسی معاہدے کو نہیں چھیڑیں گے لیکن جو ہمارا حق ہے وہ ہم کسی کو نہیں دیں گے اور اس حوالے سے ریسرچ کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جسے ہم اپنے پاس رکھیں گے اور خود ہی استعمال کریں گے۔ سندھ طاس معاہدے کے علاوہ بھی کئی ایسے دریا ہیں جو پاکستان میں موجود دریاؤں سے جا کر ملتے ہیں اور جن کے حوالے سے کوئی معاہدہ بھی نہیں ہے لہٰذا وہاں کا پانی ہم اپنے پاس ہی رکھیں گے۔ بھارتی میڈیا کی اس رپورٹ کو آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم اور بھارت کے قابل مذمت اقدام کے بعد سے پاکستان نے بھارت کے ساتھ بھرپور احتجاج کیا اور نہ صرف تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا بلکہ سفارتی تعلقات بھی محدود کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کچھ روز قبل بھارت نے بغیر اطلاع کے دریائے ستلج میں بھاکڑا ڈیم سے 50 ہزارکیوسک پانی چھوڑ دیا، لداخ ڈیم کے تین سپل ویز کھول دیئے جبکہ الچی ڈیم سے بھی پانی چھوڑ دیا تھا جس کے نیتجے میں دریائے ستلج اور دریائے سندھ میں سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
نشان حیدر اعزاز حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا48واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے۔ وہ شہادت کا رتبہ حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے پہلے آفیسر تھے۔ راشد منہاس 17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ مارچ 1971 کو راشد منہاس نے پاک فضائیہ میں بطور کمیشنڈ جی ڈی پائلٹ شمولیت اختیار کی۔ اگست1971ء کو پائلٹ آفیسر بنے۔ یہ جمعہ 20 اگست 1971ء کا واقعہ ہے۔جب وہ اپنی پہلی سولو فلائٹ پر روانہ ہو رہے تھے کہ راشد منہاس کی نظر اپنے انسٹرکٹر مطیع الرحمن پر پڑی جو خطرے کا سگنل دے رہا تھا راشد منہاس نے انسٹرکٹر کے حکم کی تعمیل کی اور طیارہ روک لیا۔ مگر طیارہ رکتے ہی مطیع الرحمن جھپٹ کر طیارے میں سوار ہوگیا اور بیٹھتے ہی دوسرے کنٹرول کے ذریعے طیارے کے کنٹرول پر قابض ہوگیا۔ اس وقت مطیع الرحمن کے پاس چند اہم دستاویزات سے جو وہ ہندوستانی حکومت کو دینے جارہا تھا۔لیکن راشد منہاس نےدشمن کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔ طیارے کی تباہی میں بلند ہونے والے شعلوں نے مطیع الرحمان کے عزائم کو خاک میں ملادی جبکہ راشد منہاس کو رتبہ شہادت کے رتبے پر فائز کردیا۔ راشد منہاس کو ان کے عظیم کارنامے پر ملک کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا۔ پاکستان میں نشانِ حیدر پانے والے سب سے کم عمرشہید راشد منہاس کراچی کے فوجی قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔




        

تازہ ترین خبریں


سائیبر سکیورٹی

تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔