تازہ ترین
بین الاقوامی دفاع
پاکستان، بھارت کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کیا، امارات کی تصدیق
امریکہ کی جانب سے روس پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کا امکان
امریکہ کبھی بھی افغانستان میں ہمیشہ رہنا نہیں چاہتا تھا۔ انتھونی بلنکن
افغان فوجی بیس پر طالبان کا حملہ،کمانڈر سمیت 10 اہلکار ہلاک
فوجیوں کی واپسی کے امریکی فیصلے کا احترام کرتے ہیں، افغان حکومت
بھارتی فوج کی فائرنگ،2 نوجوان شہید، کشمیریوں کا شدید احتجاج، 20 اضلاع میں کرفیو
  21  اپریل‬‮  2021
بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں دو مقامی نوجوانوں عامر احمد بٹ،سبزار احمد کی شہادت پر منگل کو شوپیاں اور پلوامہ اضلاع میں کاروبار زندگی معطل رہا۔ ان اضلاع میں انٹرنٹ سروس بھی معطل رہی ۔ دونوں نوجوانوں کو بھارتی فوج نے پیر کے روز ضلع شوپیان کی تحصیل امام صاحب میں دوران محاصرہ گولی مار کر شہید کر دیا تھا۔ اس کارروائی میں ا یک گھر کو بھی نقصان پہنچا۔ نوجوانوں کی شہادت پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا ، غاصب فوج نے مظاہرین پر پیلٹ گن کے کارتوس چلائے جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے، علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کر دی گئی۔عامر احمد بٹ ساکن ملی بگ امام صاحب شوپیان اور سبزار احمد ساکن سہہ پورہ کولگام کا رہنے والا تھا ۔کے پی آئی کے مطابق بھارتی فوج نے عامر احمد بٹ،سبزار احمد کی لاشیں لواحقین کو تدفین کے لیے نہیں دی ہیں ، بتایا جاتا ہے کہ فوج نے لاشوں کو شمالی کشمیر کے نا معلوم مقام پر دفنا دیا ہے ۔دریں اثنابھارتی انتظامیہ نے کرونا وائرس کا بہانا بنا کر ریاست کے 20 اضلاع میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے ۔ رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک شہری گھروں سے باہر نہیں نکل سکیں گے ۔ اس فیصلے سے شہریوں کے لیے نماز تراویح کی ادائیگی مشکل ہو گئی ہے ۔کے پی آئی کے مطابق منگل کے روز مقبوضہ کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر ، منوج سنہا نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پیش نظر جموں وکشمیر کے 20 اضلاع میں رات کاکرفیو نافذ کر دیا ہے ۔ جموں ، اودھم پور ، کٹھوعہ ، سری نگر ، بارہمولا ، بڈگام ، اننت ناگ اور کپواڑہ اضلاع میں 9 اپریل سے رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک رات کاکرفیو نافذ تھا۔امور کشمیر کے ماہرین نے بھارتی فوج کے ان نمائشی اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک تنازع ہے اور اس کو استصواب رائے کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے جس کا وعدہ اقوام متحدہ نے کیا تھا جبکہ بھارتی فورسز علاقے میں ایک قابض فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق خودارادیت کے مطالبے پر ان فورسز کی طرف سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو ایک طرف بھی رکھا جائے تو علاقے میں ان فورسز کی صرف موجودگی ہی کشمیریوں میں احساس محرومی پیدا کرنے کیلئے کافی ہے۔

ابو ظبی: وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کبھی مذاکرات سے نہیں بھاگا. اگر ہندوستان 5 اگست کے اقدامات پر نظر ثانی کرتا ہے تو ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں. کشمیر کے معاملے پر ہم صرف نظر نہیں کر سکتے. میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی باضابطہ بیک چینل رابطہ نہیں ہے ہم خطے میں امن کے خواہاں ہیںان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ابو ظہبی میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کل میری متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ سے ملاقات طے ہے، ہم دونوں ممالک سفارتی برادرانہ تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے پر مختلف پروگرام ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ میری ہندوستان کے وزیر خارجہ امور جے شنکر سے کوئی ملاقات طے نہیں ہے، ہندوستان اور پاکستان کی گفتگو جب بھی ہو گی اس کے لیے ہمیں دو طرفہ سوچنا ہوگا. پاکستان کبھی مذاکرات سے نہیں بھاگا ہم اپنے تمام ہمسایوں بشمول ہندوستان کے ساتھ پرامن تعلقات کے حامی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں کہا ہے کہ القاعدہ کمزور پڑچکی ہے۔ امریکہ کے خلاف حملوں کا امکان نہیں۔ ہمارے ایجنڈے میں چین سے تعلقات‘ ماحولیاتی‘ تبدیلی، کرونا اور دیگر معاملات شامل ہیں۔ ہم اپنی طاقت اور وسائل اب ان معاملات میں صرف کریں گے۔ افغانستان سے جو مقاصد حاصل کرنا تھے وہ حاصل کرلیے۔ انٹیلی جنس افغانستان کے معاملات اور ممکنہ خطرات پر نظر رکھے گی۔ ادھر افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں کہا ہے کہ دوستی اور دشمنی کا انتخاب پاکستان ہی کو کرنا ہوگا۔ اتوار کو صدارتی محل ارگ میں پولیس فورس کے نوجوانوں کی تقریب سے خطاب میں افغان صدر نے پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوستی یا دشمنی دونوں پاکستان کے ہاتھ میں ہیں۔ ان کے الفاظ تھے ’آج پاکستان کے لیے فیصلے کا وقت ہے، اگر ہمارا ملک عدم استحکام کا شکار رہا تو پاکستان بھی ہوگا اور اگر وہ ہمارے ملک کی بہتری چاہتے ہیں، تو اس میں ان کی بھی بہتری ہوگی۔ دوستی اور دشمنی کا انتخاب پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ افغان صدر کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان افغانستان سے دوستی چاہتا ہے تو افغانستان خطے اور دنیا کے ممالک کے مابین تعاون بڑھانے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے۔ دو سال سے ان کا ملک ہر طرح سے تیار ہے اور بین الاقوامی افواج کے انخلا سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
راولپنڈی / واشنگٹن: سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل کو ہمیشہ سپورٹ کرتا رہے گا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی وزیرخارجہ انٹونی جی بلنکن کا ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بات چیت اور افغان امن عمل میں پیش رفت اورمختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیاآئی ایس پی آر کے مطابق سربراہ پاک فوج جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان افغانوں کی قیادت میں افغان امن عمل کو ہمیشہ تعاون کرتا رہے گا۔ جب کہ امریکی وزیر خارجہ نے خطے کے امن و استحکام کے لئے پاکستان کی مسلسل کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے پاک امریکا باہمی تعلقات مزید بڑھانے کی ضرورت پرزور دیا۔ چاپانی سفیر کا دورہ جی ایچ کیو آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان میں تعینات جاپانی سفیر نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید سے ملاقات کی، ملاقات میں باہمی دلچسپی علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان جاپان کے ساتھ تعلقات کوخصوصی اہمیت دیتا ہے، علاقائی استحکام کے لیے جاپان کی کوششیں لائق تحسین ہے۔ چاپانی سفیر کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار قابل قدر ہے، افغان مفاہمتی عمل کے لیے پاکستان کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔


ہتھیار
        

تازہ ترین ویڈیو
بین الاقوامی دفاع
بین الاقوامی دفاع
بین الاقوامی دفاع
علاقے


تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ دفاع ٹائمز محفوظ ہیں۔